🧾زرمبش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے تحت ریڈیو زرمبش کی اردو سروس۔ یہاں اردو زبان میں ریڈیو بلیٹن اور پروگرامات کے علاوہ تحریری صورت میں بھی خبریں ، رپورٹس اور مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔🎙
Join @rzurdu for exclusive News Update & Newspapers content and discussions in 9
ابھی تک کوئی جائزے نہیں ہیں۔ پہلے بنیں اور اپنا تجربہ شیئر کریں!
تازہ ترین پوسٹس
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
یہی وہ مقام ہے جہاں قانون ایک مقدس لبادہ اوڑھ کر استعماری ڈھانچے کی توسیع کرتا ہے۔ جو بظاہر عدل، توازن اور اخلاقی برتری کی نمائندگی کرتا ہے۔ مگر اس تقدس کی حقیقت اس وقت منکشف ہوتی ہے جب اس کے پسِ پردہ کارفرما منطق کو سمجھا جائے: وہ منطق جو انصاف نہیں بلکہ قبضہ، اور تسلط کو یقینی بناتی ہے۔ فرانز فینن کے بقول ، نوآبادیاتی نظام اپنی بقا کے لیے قانون کو ایک ایسے ہتھیار میں بدل دیتا ہے جو محکوم کو نہ صرف قابو میں رکھتا ہے بلکہ اس کی مزاحمت کو بھی جرم میں تبدیل کر دیتا ہے۔
نوآبادیاتی نظام میں عدالت طاقت کے ایک منظم آلے کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہاں قانون کی تشکیل، اس کی تعبیر، اور اس کا نفاذ کچھ ایک ایسے استعمار کے تابع ہوتا ہے جو خود کو “مہذب” اور نوآبادی کو “غیر مہذب” ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے جو فرد اپنے حقِ آزادی، خودمختاری یا اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اسے قانون کی نظر میں باغی، شرپسند یا مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس مین کوئی دورائے نہیں کہ عدالت میں کھڑا نوآبادی فرد در اصل ملزم نہیں ہوتا بلکہ اصل مین انصاف کی کرسی پر بھیٹے نوآبادیاتی آلہ کار (جج)مجرم ہوتاہے لیکن استعماری بیانیے میں نوآبادی کو جو اپنے حق آزادی اور وطن کی دفاع کے لے لڑ رہا ہوتا ہے اس کو مشکوک اور مجرم قرار دیا جاتاہے۔ یہاں اصل سوال جرم کا نہیں بلکہ “جرم کی تعریف” کا ہوتا ہے۔ کون طے کرتا ہے کہ کیا جرم ہے؟ اور کس بنیاد پر؟ نوآبادیاتی طاقت اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کو جرم اور غلامی کو قانون پسندی قرار دیتی ہے۔ اس طرح عدالت ایک ایسا اسٹیج بن جاتی ہے جہاں انصاف کا ڈرامہ تو کھیلا جاتا ہے، مگر اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔تاریخ میں ہمیں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں، جہاں آزادی کے متوالوں کو عدالتوں میں مجرم بنا کر پیش کیا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی لوگ ہیرو اور مزاحمت کی علامت بن گئے۔
اسی طرح ایڈورڈ سعید کے نظریۂ استشراق کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں بھی ایک بیانیاتی آلہ ہیں جو “ نوآبادی ” کو ایک غیر مہذب، غیر عقلی اور نظم کے محتاج وجود کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ عدالت کے فیصلے، قوانین کی زبان، اور شواہد کی تعبیرسب مل کر ایک ایسا ڈسکورس تخلیق کرتے ہیں جو استعماری اقتدار کو فطری اور ناگزیر بنا کر پیش کرتا ہے۔
یہ عدالتیں انصاف کے بجائے “قانونی جواز” پیدا کرتی ہیں۔ یہاں انصاف کا تصور خود استعماری مفادات کے تابع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جبری قبضہ ، وسائل کی لوٹ مار، اور سیاسی و اصو لی مزاحمت کی سرکوبیان سب کو قانونی رنگ دینے کے لیے عدالتیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس طرح قانون ایک ایسا پردہ بن جاتا ہے جو ظلم کو نظم اور استحصال کو انصاف کے نام پر چھپا دیتا ہے۔
نوآبادیاتی عدالتوں کا ڈھانچہ ہی اس انداز سے ترتیب دیا جاتا ہے کہ نوآبادی ثقافت، ادب، روایات، زبان، تہذیب اور قانونی شعور کو شعوری طور پر حاشیے پر دھکیل دیا جائے۔ ایک اجنبی زبان، پیچیدہ قانونی اصطلاحات، اور غیر مانوس طریقۂ کار مل کر ایک ایسی علامتی و عملی دیوار تعمیر کرتے ہیں جو انصاف تک رسائی کو نہایت محدود بلکہ ناممکن بنا دیتی ہے۔ یوں قانون، جو بظاہر غیر جانبدار اور آفاقی دکھائی دیتا ہے، دراصل استعمار کے مخصوص مفادات کا ترجمان بن جاتا ہے۔ اس تناظر میں نوآبادیاتی عدالتوں کو محض عدالتی ادارے نہیں بلکہ ایک “ تھیٹر” قرار دینا زیادہ مناسب ہے، جہاں انصاف کی ادائیگی نہیں بلکہ اس کی نمائشی تشکیل ہوتی ہے۔ اسٹیج پر قانون کی بالادستی، شواہد کی جانچ اور عدل کی علامتی زبان دکھائی جاتی ہے، مگر پسِ پردہ فیصلے استعماری ضرورتوں، مقاصد اور طاقت کے توازن کے مطابق طے ہوتے ہیں۔یہ عدالتیں استعماری نظام کو برقرار رکھنے کا نہ صرف ذریعہ اور سٹپنی ہوتے ہیں بلکہ انھیں اخلاقی جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔ وہ ظلم کو قانون کا لبادہ پہناتی ہیں اور مزاحمت کو جرم میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ اس طرح نوآبادیاتی عدالت ایک ایسے بیانیے کی تشکیل کرتی ہے جس میں قابض قوت “منصف” اور محکوم “ملزم” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
تاریخ کا مستند سچ یہی ہے کہ جو استعماری ادارے “جرم” کی تعریف متعین کرتے ہیں، وہ خود سب سے بڑے تاریخی جرائم کے معمار نکلتے ہیں۔ نوآبادیاتی عدالتیں اس حقیقت کی زندہ علامت ہے یہ بظاہر یہ ادارے عدل، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے دعوے کے ساتھ قائم کیے جاتے ہیں، مگر درحقیقت ان کی بنیاد ایک ایسے نظام پر ہوتی ہے جو خود جبر، استحصال اور غیر مساوی طاقت کے رشتوں پر قائم ہوتا ہے۔ یہاں قانون ایک اخلاقی اصول نہیں بلکہ ایک سیاسی ہتھکنڈہ بن جاتا ہےایک ایسا نقاب جو سامراج کے چہرے کو مہذب بنا کر پیش کرتا ہے۔
121
0
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
نوآبادیاتی عدل کا استعماری فریب!
تحریر۔ رامین بلوچ
https://urdu.zrumbesh.com/26164/
تاریخ کے اوراق جب بھی الٹے جائیں، ایک تلخ مگر واضح حقیقت بار بار ابھر کر سامنے آتی ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں اپنی فطرت میں انصاف کے ادارے نہیں ہوتیں بلکہ وہ قبضہ کے اس جال کا مرکزی گرہ ہوتی ہیں جس کے ذریعے قبضہ، تسلط اور استحصال کو قانونی جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ عدالتیں بظاہر قانون کی حکمرانی، غیرجانبداری اور عدل کے اعلیٰ اصولوں کی نمائندہ نظر آتی ہیں، مگر درحقیقت ان کی بنیاد ایک ایسے استعماری ڈھانچے پر استوار ہوتی ہے جن کا مقصد مقبوضہ اقوام کو قابو میں رکھنا اور ان کے زمین اور وسائل پر گرفت مضبوط کرنا ہوتا ہے۔نوآبادیاتی نظام میں “قانون” ایک غیر جانبدار انصاف نہیں بلکہ قبضہ کا ایک آلہ ہوتا ہے۔ جہان قانون خود ایک استعماری بیانیہ (narrative) ہوتاہے جسے ایمپائر قوتیں تشکیل دیتی ہیں تاکہ اپنے جبری قبضہ کو فطری، جائز اور ناگزیر ثابت کیا جا سکے۔ جہاں عدالتیں محض فیصلے سنانے کی جگہ نہیں بلکہ استعماری مشینری بن جاتے ہین جہاں “جرم” اور “انصاف” کی تعریفیں بھی استعمار اور اشرافیہ طے کرتی ہیں۔
نوآبادیاتی عدالتوں کی سب سے بڑی مکروہ خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ نوآبادی کو مجرم اور مزاحمت کو دہشت بنا کر پیش کرتی ہیں۔ جو آوازیں جو تحریکیں ، آزادی، انسانی وقار اور خودمختاری کی باتیں کرتے ہیں، انہیں نام نہاد قانون کی زبان میں فتنہ “فساد”، “غداری” یا “دہشت” کے خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح عدالتین انصاف فراہم کرنے کے بجائے ایک ایسا اخلاقی الٹ پھیر (moral inversion) پیدا کرتی ہے جس میں جبر و جارحیت کو قانون و ریاستی اختیار اور مزاحمت کو جرم قرار دیا جاتا ہے۔ بظاہران عدالتوں کے دروازوں پر آویزاں ترازو، اور غیرجانبداری کا دعویٰ سب محض نمائشی ہوتے ہیں، فیصلوں کے پیچھے کارفرما قوت قانون نہیں بلکہ استعمار ہوتا ہے۔ جہان طاقت خود کو قانون کے پردے میں چھپا لیتی ہے، اور جبر کو ایک “قانونی عمل” کا نام دے دیا جاتا ہے۔
نوآبادیاتی عدالتوں کی ماہیت کو اگر واقعی سمجھنا ہو تو اسے محض قانونی ڈھانچے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر استعمار بیانیے کے حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ مشعل فوکالٹ کا تصورِ طاقت و علم یہاں بنیادی اہمیت اختیار کرتا ہے، وہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ نوآبادیاتی قانون کسی غیر جانب دار سچائی کا مظہر نہیں بلکہ ایک ایسا آلہ ہے جو استعماری بیانیہ کو “ کوٹا سچ” بناکر پیش کرتاہے۔جہان قانون محض ضابطہ نہیں بلکہ طاقت کے اظہار کا ایک مہذب طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں نوآبادی کو “مہذب” بنانے کے نام پر ایک ایسا قانونی فریم مسلط کرتی ہیں جو دراصل ان کی اپنی تہذیبی برتری کو جائز ٹھہراتا ہے۔
۔نوآبادیاتی سیاق میں یہ عمل اور بھی گہرا اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یہاں قانون ایک ایسے “مہذب کرنے والے منصوبے” (civilizing mission) کا حصہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے نوآبادی کی قانون روایات ادب تاریخ کلچر ، اور خودمختاری کو غیر معیاری اور پسماندہ قرار دیا جاتا ہے۔ فرانز فینن نے اسی پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتاہے کہ نوآبادیاتی نظام محض زمینی یا جسمانی قبضہ نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی تسلط بھی قائم کرتا ہےاور ان کی عدالتیں اس تسلط کی ایک نہایت مؤثر شکلیں ہیں۔ یہ عدالتیں بظاہر غیر جانبداری، ضابطے اور شفافیت کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں، مگر درحقیقت یہ طاقت کے اس ڈھانچے کو برقرار رکھتی ہیں جو نوآبادکار کے مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ قانون کی زبان، اس کی اصطلاحات، اور اس کے طریقۂ کارسب ایسے وضع کیے جاتے ہیں کہ نوآبادی خود کو اس نظام میں اجنبی محسوس کرے۔ یوں یہ عدالتیں انصاف دینے کے بجائے ایک ایسی “معنوی سرحد” قائم کرتی ہے جہاں قابض اور مقبوض کے درمیان خلیج مزید پختہ ہو جاتا ہے۔
چنانچہ یہ کہنا زیادہ قرینِ حقیقت ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں انصاف کی غیر جانب دار فراہمی کے بجائے نام نہاد“نظم و ضبط” (discipline) کے قیام کا آلہ کار ہوتی ہیں۔ یہاں قانون محض قواعد و ضوابط کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ طاقت کے ایک منظم اور مہذب اظہار میں ڈھل جاتا ہے۔اسی تناظر میں نوآبادیاتی عدالتیں جرم کی تعریف بھی خود متعین کرتی ہیں اور سزا کے معیارات بھی خود وضع کرتی ہیں۔یوں ایک ایسا دائرہ (cycle) قائم ہو جاتا ہے جس میں نوآبادی باشندہ پہلے سے ہی ایک “ممکنہ مجرم” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کی حرکات، اس کی شناخت، حتیٰ کہ اس کی خاموشی تک کو شک کی نگاہ سے پرکھا جاتا ہے۔ نتیجتاً جرم کوئی معروضی حقیقت نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا بیانیہ بن جاتا ہے جسے استعماری طاقت اپنی ضرورت کے مطابق تشکیل دیتی ہے۔
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
سرخ لکیر عبور
عزیز سنگھور
https://urdu.zrumbesh.com/26161/
خواتین کی جبری گمشدگیاں صرف افسوسناک نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی حکومتی نظام کے لیے ایک شرمناک حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکنے کے بجائے مزید پھیلتا جا رہا ہے، اور اب اس کی زد میں وہ خواتین اور طالبات بھی آ چکی ہیں جنہیں کسی بھی مہذب معاشرے میں سب سے زیادہ تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ طاقت کے استعمال، قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنے اور احتجاج کرنے والے خاندانوں کو مجرم بنانے کا رجحان اس بات کا ثبوت بنتا جا رہا ہے کہ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے دبانے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریوں کو اسی طرح نظرانداز کرتے رہے تو یہ نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہوگا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے باقی ماندہ رشتے کو بھی مکمل طور پر ختم کر دے گا۔
21 اپریل 2026 کو داد شاہ بلوچ کو دوسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ان کی گمشدگی کے بعد ان کے اہلِ خانہ شدید اذیت اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں، کیونکہ انہیں اب تک ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ہفتے کے روز کراچی پریس کلب کے باہر ان کے خاندان کے افراد نے پرامن طور پر احتجاج کیا۔ ان کا مقصد صرف اتنا تھا کہ عوام کو داد شاہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے بارے میں آگاہ کیا جائے، کیونکہ انہیں باقاعدہ پریس کانفرنس کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
لیکن اس پرامن احتجاج کو سننے یا اس پر توجہ دینے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ آرم باغ تھانے کی پولیس نے احتجاج کرنے والے افراد کو حراست میں لے کر اجتماع کو منتشر کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی داد شاہ بلوچ کی ہمشیرہ، کامریڈ فوزیہ بلوچ، ان کی والدہ اور دیگر اہلِ خانہ کے خلاف ایک ناجائز ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی ادارے نہ صرف جبری گمشدگیوں کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کی آواز کو دبانے کے لیے قانونی ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی ایک اور تشویشناک مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خدیجہ بلوچ، جن کا پورا نام خدیجہ پیر جان ہے، ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک کی رہائشی اور کوئٹہ میں زیرِ تعلیم تھیں۔ انہیں 21 اپریل کی رات بولان میڈیکل کالج کے نرسنگ ہاسٹل سے انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
خدیجہ بلوچ کی حراست کے خلاف بولان میڈیکل کالج کے باہر کئی روز سے دھرنا جاری ہے۔ طالبات، اہلِ خانہ اور سماجی کارکن مسلسل احتجاج کر رہے ہیں، لیکن اب تک انتظامیہ کی جانب سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نام پر انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، مظاہرین کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور پولیس اہلکار ان کی تصاویر لے رہے ہیں، جس سے خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
اسی دوران خدیجہ بلوچ کے اہلِ خانہ اور ساتھی طالبات نے کوئٹہ میں ایک پرامن احتجاجی ریلی بھی نکالی، جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے خدیجہ کی فوری بازیابی، خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور حکومتی اداروں کی شفافیت کے مطالبات کیے۔ ان مطالبات میں صرف ایک فرد کی رہائی نہیں بلکہ ایک وسیع تر اصول کی بحالی کی خواہش شامل ہے۔ وہ اصول جس کے تحت کسی بھی شہری کو بغیر قانونی جواز کے حراست میں نہیں لیا جا سکتا۔
بلوچستان میں خواتین کی مبینہ جبری گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ رجحان نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ سماجی سطح پر خوف اور عدم تحفظ میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ معاشرتی روایات میں ایک انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ روایتی طور پر خواتین کو تنازعات سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس روایت کا ٹوٹنا معاشرتی توازن کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
بلوچ وومن فورم (BWF) نے خدیجہ پیر جان کی جبری گمشدگی کی سخت مذمت کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خدیجہ کے بارے میں فوری اور واضح معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ فورم نے اس عمل کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اس طرح نشانہ بنانا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ فورم نے بی ایم سی کے باہر جاری طلبہ کے دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس پرامن احتجاج کا حصہ بنیں، کیونکہ خاموشی ناانصافی کو مزید تقویت دیتی ہے۔
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن فوزیہ بلوچ کو پولیس نے والدہ اور دیگر افراد سمیت حراست میں لے لیا ہے۔
https://urdu.zrumbesh.com/26155/
ذرائع کے مطابق فوزیہ بلوچ کو کراچی پریس کلب کے باہر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنے بھائی داد شاشانی کی دوسری بار جبری گمشدگی کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہی تھیں۔
پولیس کارروائی کے دوران ان کے ہمراہ موجود دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
161
0
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
خاران، تربت: فوجی آپریشن میں مارٹر گولہ گرنے سے 4 افراد زخمی، جوسک میں پولیس فائرنگ سے خاتون زخمی
https://urdu.zrumbesh.com/26158/
بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لجے میں جاری فوجی آپریشن کے دوران مارٹر گولہ گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق شوآپ کے مقام پر ایک گھر پر مارٹر گولہ لگنے کے نتیجے میں بی بی ذاکرہ، بی بی شفیقہ، حافظ طاہر اور ایک سالہ بچی نادیہ زخمی ہوگئے جبکہ گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جس کے باعث زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جبکہ کواڈ کاپٹر اور ڈرون طیاروں کی پروازیں بھی دیکھی گئی ہیں اور مختلف اطراف سے مارٹر گولے فائر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تربت جوسک میں پولیس کارروائی کے دوران فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہوگئی۔
پولیس کے مطابق ناکہ بندی کے دوران ایک مشتبہ گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم نہ رکنے پر تعاقب کیا گیا، جس کے بعد سلالہ بازار میں فائرنگ کے ذریعے گاڑی کے ٹائر برسٹ کیے گئے۔ اس دوران گاڑی میں سوار خاتون گل جان زوجہ حاجی عبدالواحد (ساکن پنجگور) گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کے بازو پر گولی لگی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی میں سوار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
181
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے بھی اس حوالے سے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر دھرنے کے کسی بھی شریک کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری براہِ راست کوئٹہ پولیس پر عائد ہوگی۔ تنظیم کے مطابق پولیس نے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹ کر عوام کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔
کراچی پریس کلب کے سابق صدر سعید سربازی نے پریس کلب کی ناکہ بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کراچی پریس کلب کے موجودہ صدر فاضل جمیلی، سینئر ممبر کلب عارف بلوچ، سعید جان بلوچ، اختر سومرو، اکرم بلوچ، محمد حفیظ، ابوبکر صدیق اور دیگر کلب کے دوستوں سے رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسئلے کے حل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لیے پریس کلب کے دوستوں کا ایک مشاورتی اجلاس بھی طلب کیا جا رہا ہے۔
ادھر بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی خواتین کی جبری گمشدگیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ نال استخلی میں اورناچ کے رہائشی ثمینہ بنت دوست محمد اور ان کے کزن قمبر ولد عبداللطیف کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے سنگ آباد میں 14 اپریل کو بائیس سالہ گل بانک بنت تاج محمد کو ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جو تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں۔ اہلِ خانہ شدید بے چینی اور خوف میں مبتلا ہیں اور ان کی زندگی کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
رواں ماہ بلوچستان سے پانچ بلوچ خواتین کے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں مختلف علاقوں سے تقریباً پندرہ خواتین لاپتہ ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
یہ صورتحال سندھ اور بلوچستان میں قائم حکومتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر خواتین کی جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ نہ رکا تو اس کے اثرات نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے سندھ کے سماجی اور سیاسی استحکام پر مرتب ہوں گے۔
154
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
ڈھاڈر/نوشکی/خضدار: مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر حملے، پولیس اہلکار ہلاک و زخمی
https://urdu.zrumbesh.com/26149/
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مسلح حملوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع ڈھاڈر میں تقریباً پندرہ موٹر سائیکلوں پر سوار تیس کے قریب مسلح افراد نے شہر میں داخل ہو کر ڈپٹی کمشنر آفس، پولیس تھانہ اور نادرا آفس پر حملے کیے۔ حملوں کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے۔
حملہ آوروں نے نادرا آفس اور تھانے میں کھڑی گاڑیوں کو بھی نذرآتش کر دیا۔
دوسری جانب نوشکی میں مسلح افراد کی جانب سے مل تھانے پر حملے کی اطلاع ملی ہے، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کر دیا گیا۔
ادھر ضلع خضدار کے علاقے زاوہ میں پاکستانی فورسز کے قافلے کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک گاڑی ناکارہ ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق گاڑی میں سوار اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم سرکاری سطح پر تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسی مقام پر مسلح افراد کی بڑی تعداد نے ناکہ بندی کی تھی۔
176
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
خاران: پاکستانی فوج کا آپریشن، علاقے میں پیش قدمی جاری
https://urdu.zrumbesh.com/26152/
بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لجے میں پاکستانی فوج کی جانب سے آپریشن کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق آج صبح فورسز نے متعدد گاڑیوں اور پیدل علاقے میں پیش قدمی کا آغاز کیا، جبکہ بڑی تعداد میں اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات ہوتے دیکھا گیا ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ڈرون طیاروں کی پروازیں بھی دیکھی گئی ہیں، جس سے علاقے میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
حکام کی جانب سے تاحال اس آپریشن سے متعلق کوئی باضابطہ تفصیلات یا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
178
0
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
گوادر: کوسٹل ہائی وے حادثہ، باپ بیٹا ہلاک
https://urdu.zrumbesh.com/26142/
گوادر کے علاقے سربندن میں کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک حادثے کے نتیجے میں باپ اور بیٹا ہلاک ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق حادثہ تیز رفتار تیل بردار زمباد گاڑی کی موٹرسائیکل سے ٹکر کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار دونوں افراد موقع پر ہلاک ہوگئے۔
ہلاک افراد کی شناخت محمد اکبر ولد عبدالرحیم اور میانداد ولد محمد اکبر، ساکنان کنگانی وارڈ سربندن کے طور پر ہوئی ہے۔
واقعے کے بعد لاشوں کو جی ڈی اے انڈس ہسپتال گوادر منتقل کیا گیا، جہاں ضروری کارروائی کے بعد میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں
199
0
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
29 اپریل، 2026، 02:30 AM
کوئٹہ: ہنہ اوڑک میں کمپنی سائٹ پر حملہ، مشینری نذرآتش
https://urdu.zrumbesh.com/26146/
کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں نامعلوم مسلح افراد نے تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی کی سائٹ پر حملہ کر کے بھاری مشینری اور گاڑیوں کو نذرآتش کر دیا۔
ذرائع کے مطابق واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل ضلع چاغی کے علاقے داریگوان میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (NRL) کی مائننگ سائٹ پر بھی حملہ کیا گیا تھا، جس میں ایک غیر ملکی سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تاحال ان حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہیں۔
226
0
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جلاوطنی میں رہ کر جدوجہد کرنے والے کارکنوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ بیرونِ ملک پلیٹ فارمز پر آواز اٹھانا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا ایک اہم فریضہ ہے، جسے سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ انجام دینا ضروری ہے۔
شہداء مرگاپ کی یاد منانے کا مقصد صرف خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ ان کے مشن کو سمجھ کر اسے عملی طور پر آگے بڑھانا ہے۔ خود احتسابی، نظریاتی وابستگی اور تنظیمی مضبوطی ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی قومی تحریک کو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔
انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء مرگاپ کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور بلوچ قومی تحریک کو مزید منظم، مربوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کی آزادی حصول تک یہ جدوجہد جاری رہے گی، اور اس راستے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
جبکہ سیمینار کے فرائض بلوچ نیشنل موومنٹ نیدرلینڈز چیپٹر کے جنرل سیکرٹری دیدگ بلوچ اور ماہرہ بلوچ نے ادا کئے۔
137
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
تربت اور نوشکی میں شاہراہوں پر ناکہ بندی، پولیس چوکیوں پر قبضہ، اسلحہ ضبط، فوج پر حملوں میں متعدد اہلکار ہلاک کیے گئیے۔ بی ایل ایف
https://urdu.zrumbesh.com/26004/
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے گزشتہ روز 9 اپریل 2026 کو شام 6 بجے حکمت عملی کے تحت ایک وسیع اور مربوط و منظم آپریشن شروع کرتے ہوئے تربت شہر کے قریب سی پیک کے مرکزی روٹ M-8 پر ناکہ بندی کی اور کئی گھنٹوں تک شاہراہ پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کر لیا۔
ترجمان نے کہا کہ آپریشن کے آغاز میں سرمچاروں کے ایک مستعد دستے نے شاہ داد ہوٹل کے مقام سے پیش قدمی کرتے ہوئے لوڑی جنگجاہ میں قائم پولیس چوکی پر دھاوا بولا اور بغیر کسی مزاحمت کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ وہاں موجود تمام سرکاری اسلحہ اور دیگر عسکری ساز و سامان ضبط کر کے اپنی تحویل میں لے لیا۔ سرمچاروں نے چوکی پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے بعد شاہراہ پر دو گھنٹے تک سخت اسنیپ چیکنگ کی، جس کا مقصد دشمن کے متوقع ردعمل اور نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور قابض ریاست کی نام نہاد عمل داری کو تہہ و بالا کرنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوسرے مرحلے میں سرمچاروں نے دشمن کے جاسوسی نظام کو مفلوج کرنے کے لیے تکنیکی حملے کرتے ہوئے دشت شاہ داد ہوٹل کے عقب میں پہاڑی پوزیشنوں پر نصب پاکستانی فوج کے جدید سرویلنس کیمرے، پاور سپلائی کے لیے نصب سولر پینلز اور دیگر حساس آلات کو مکمل طور پر تباہ کر کے ناکارہ بنا دیا۔
ترجمان نے کہا کہ علاوہ ازیں، سرمچاروں نے لوڑی جنگجاہ اور ماشاءاللہ ہوٹل کے درمیان واقع موبائل ٹاور کو بھی نشانہ بنایا، جسے دشمن فوج نے سرمچاروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے خفیہ کیمروں اور لسننگ ڈیوائسز سے لیس کر رکھا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ سرمچاروں نے اپنے تمام تزویراتی مقاصد کامیابی کے ساتھ حاصل کرنے کے بعد ناکہ بندی ختم کی اور اپنے محفوظ ٹھکانوں کی جانب روانہ ہوئے۔ اسی دوران قابض فوج کے 6 گاڑیوں پر مشتمل قافلے نے پیش قدمی کرتے ہوئے سرمچاروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن پہلے ہی سے مختلف اطراف میں پوزیشنوں پر گھات لگائے سرمچاروں کے دستے نے فوجی قافلے پر حملہ کر کے ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔ آدھے گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس شدید جھڑپ میں سرمچاروں نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ جھڑپ کے دوران قابض فوج نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے سرمچاروں کی نگرانی کرنے کی کوشش کی، جسے فائرنگ کر کے سرمچاروں نے تباہ کر دیا۔
بی ایل ایف نے کہا کہ اس حملے میں دشمن کی دو گاڑیاں براہِ راست زد میں آئیں جبکہ تیسری گاڑی کو گولیوں سے شدید نقصان پہنچا۔ سرمچاروں کی عسکری برتری کے باعث حواس باختہ دشمن فوج کو پسپا ہونا پڑا۔ اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 10 اپریل 2026 کی شام 6 بجے، نوشکی ڈاک میں مربوط حکمت عملی کے تحت شاہراہ کی ناکہ بندی کی اور مسلسل دو گھنٹے تک پورے علاقے کو اپنے مکمل عسکری کنٹرول میں رکھا۔ اس دوران سرمچاروں کے مختلف دستوں نے شاہراہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں منظم گشت کیا تاکہ دشمن کی کسی بھی ممکنہ نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقائی گشت کے دوران سرمچاروں کا سامنا پولیس کی ایک موٹر سائیکل گشتی ٹیم سے ہوا، جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔ کارروائی کے دوران سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کے قبضے سے ایک عدد نائن ایم ایم پستول اور وائرلیس سیٹ قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔ تاہم اپنی روایتی بلوچ قومی اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مذکورہ اہلکاروں کو رہا کر دیا۔ تاہم انھیں سخت تنبیہ کی کہ بلوچ تحریک آزادی اور عوام دشمنی سے گریز کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک اور کارروائی میں، 11 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے احمد وال مھسسکی میں قائم پولیس چوکی پر دھاوا بول کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ سرمچاروں کی تزویراتی برتری اور برق رفتار حملے سے چوکی پر موجود اہلکار مزاحمت کی سکت نہ لا سکے، جس کے بعد سرمچاروں نے بغیر کسی مزاحمت کے چوکی پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔
ترجمان نے کہا کہ چوکی کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سرمچاروں نے وہاں موجود اہلکاروں کو غیر مسلح کر دیا اور ان کے قبضے میں موجود سرکاری اسلحہ اپنی تحویل میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے تمام پولیس اہلکاروں کو سخت تنبیہ کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا۔
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
کوئٹہ: ہزار گنجی میں سبزی فروشوں پر فائرنگ، 3 افراد ہلاک، احتجاج میں مغربی بائی پاس بند
https://urdu.zrumbesh.com/26006/
کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے، جن کا تعلق ہزارہ برادری سے بتایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق فائرنگ کا واقعہ سبزی فروشوں کو نشانہ بنا کر پیش آیا، جس کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہلاک ہوگئے۔
واقعے کے بعد لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ پولیس نے مزید کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
دوسری جانب واقعے کے خلاف ہزارہ برادری کے نوجوانوں نے احتجاج کرتے ہوئے مغربی بائی پاس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
156
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
جیونی: سمندر میں پاکستانی فورسز کی بوٹ پر حملہ، تین اہلکار ہلاک ہونے کی تصدیق
https://urdu.zrumbesh.com/26009/
بلوچستان کے ساحلی علاقے جیونی کے قریب سمندر میں پاکستانی فورسز کی ایک بوٹ پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حکام نے حملے میں تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ معمول کے مطابق سمندر میں گشت کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے سمندری علاقے میں اس نوعیت کا حملہ اس سے قبل بھی رپورٹ ہوا ہے۔ اس سے قبل بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے سمندر کے کنارے دو کوسٹ گارڈ اہلکاروں کو نشانہ بناکر ہلاک کردیا تھا۔
145
0
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
کوئٹہ و کیچ: فائرنگ کے واقعات میں تین افراد ہلاک
https://urdu.zrumbesh.com/26001/
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر فائرنگ کے واقعے میں جتوئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان ہلاک ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت ریاض جتوئی اور نصیر احمد ولد عبدالفتح جتوئی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں افراد مبینہ طور پر قبائلی دشمنی کا نشانہ بنے۔
واقعے کے بعد لاشوں کو سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں جتوئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تمپ گومازی میں مسلح گاڑی سوار افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت عزت ولد غلام قادر کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق سرکاری حمایت یافتہ مسلح گروہ، جسے مقامی طور پر "ڈیتھ اسکواڈ” کہا جاتا ہے، سے تھا۔
152
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
آخر میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ یہ واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں دشمن کی کسی بھی فوجی یا معاشی تنصیب کو محفوظ نہیں رہنے دیا جائے گا۔ ہمارے سرمچار جدید جنگی مہارتوں سے لیس ہیں اور وہ دشمن کے ہر دفاعی حصار کو توڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ حملے بلوچستان کی مکمل آزادی تک پوری شدت اور نئی جنگی جہتوں کے ساتھ جاری رہیں گے۔
131
0
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
لندن: بی این ایم کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ، بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر آگاہی مہم
https://urdu.zrumbesh.com/25995/
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے یوکے چیپٹر کے زیر اہتمام 8 اپریل 2026 کو برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں وزیرِاعظم ہاؤس کے سامنے بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور دیگر اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا۔
مظاہرے میں بی این ایم کے اراکین کے علاوہ بلوچ ڈائسپورہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ سرگرمی بی این ایم کی عالمی مہم #BNMGlobalCampaign کا حصہ تھی، جو 10 مارچ سے 9 اپریل تک جاری ایک ماہ پر مشتمل پروگرام کے تحت مختلف ممالک میں منعقد کی گئی۔
مہم کے دوران جنیوا میں انسانی حقوق کے اجلاس کے موقع پر بی این ایم کی گیارہویں عالمی کانفرنس سمیت جنوبی کوریا، جرمنی، نیدرلینڈز اور برطانیہ میں مختلف تقریبات اور سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جبکہ 9 اپریل کو شہدائے مرگاپ کے دن کے حوالے سے بھی پروگرامز ترتیب دیے گئے۔
لندن میں احتجاج کے بعد بی این ایم کے کارکنان نے شہر کے مختلف اہم مقامات پر آگاہی مہم چلائی، جس کے دوران ٹیموں کی صورت میں پمفلٹس تقسیم کیے گئے اور عوام کو بلوچستان کی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔ ان مقامات میں وزیرِاعظم ہاؤس، برطانوی پارلیمنٹ، بی بی سی کا مرکزی دفتر اور دیگر اہم عوامی مقامات شامل تھے۔
اس موقع پر بی این ایم کے مرکزی رہنما حسن دوست بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال عالمی توجہ کی متقاضی ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی اداروں کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے بلوچ قومی تحریک کی تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد مختلف ادوار میں جاری رہی ہے۔
مظاہرے سے دیگر مقررین عابد عبداللہ، جاسم بلوچ اور احمد عبدالحمید نے بھی خطاب کیا اور بلوچستان میں جاری صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
192
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
آواران: بلوچ آزادی پسندوں کا پاکستانی فوجی قافلے پر حملہ، جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات
https://urdu.zrumbesh.com/25998/
بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے آھوری میں آج صبح بلوچ آزادی پسندوں کی جانب سے پاکستانی فوج کے قافلے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
علاقائی ذرائع کے مطابق آٹھ گاڑیوں پر مشتمل فوجی قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا، جہاں حملہ آوروں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں فورسز کو جانی و مالی نقصانات پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم نقصانات کی نوعیت اور تعداد کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
حکام کی جانب سے واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔
حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی تاہم بلوچ آزادی پسند تنظیموں کی کاروائیاں مسلسل جاری ہیں جن میں پاکستانی فورسز کو بھاری نقصانات کا سامنا رہا ہے۔
اسی طرح گزشتہ دنوں مستونگ اور پھر تربت میں پاکستانی فوج کے قافلوں کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا جن میں پاکستانی فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز سمیت متعدد اہلکار ہلاک ہوئے جن کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہیں۔
163
0
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
مند اور پروم میں پاکستانی فوج پر حملوں میں دو اہلکار ہلاک، زیر حراست ڈی ایس پی کو رہا کردیا۔ بی ایل ایف
https://urdu.zrumbesh.com/25988/
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے کہا ہے کہ سرمچاروں نے 9 اپریل 2026 کو مند کے علاقے ردیگ اور مہیر کے درمیان کُڈومب کے مقام پر پاکستانی فوج کے قافلے کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو آئی ای ڈی (IED) دھماکے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 8 اپریل 2026 کو پنجگور کے علاقے پروم میں ٹوبہ کے مقام پر قائم فرنٹیر کور (ایف سی) کے کیمپ پر حملہ کیا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب اہلکار کیمپ کیلئے حفاظتی باڑ لگانے میں مصروف تھے۔ سرمچاروں نے ان پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ علاوہ ازیں، بی ایل ایف کی تحویل میں موجود پولیس افسر، ڈی ایس پی انور علی کو ان کے بیٹے سمیت رہا کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے علاقے بھرام کے رہائشی ڈی ایس پی انور علی کو گزشتہ ماہ خضدار کے علاقے کرخ سے ایک کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ بی ایل ایف نے اپنی روایتی بلوچ قومی اخلاقیات اور اعلیٰ انسانی مقاصد کے پیشِ نظر، انور علی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا۔ سرمچاروں نے اسے سخت تنبیہ کی کہ آئندہ تحریک آزادی اور عوام کی دشمنی سے گریز کرے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری جنگ کسی فردِ واحد سے نہیں بلکہ سرزمین پر قابض استعماری نظام کے خلاف ہے، تاہم تحریک کے مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح رہے گی۔
139
زرمبش اردو | 🎙ZBC
15 اپریل، 2026، 05:32 AM
کوئٹہ: وی بی ایم پی کا احتجاج 6130ویں روز میں داخل، کراچی سے بلوچ خاتون سمیت 9 افراد کی جبری گمشدگی پر تشویش
https://urdu.zrumbesh.com/25992/
جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6130ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔
تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق 8 اپریل کی رات کراچی کے علاقے شرافی گوٹھ سے ایک بلوچ خاتون سمیت 9 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
لاپتہ افراد میں شکیلہ زوجہ نصیر، عمران ولد فیض، عدنان ولد فیض، رضوان ولد فیض، صابر ولد فیض، نصیر ولد خیر محمد، وسیم ولد خیر محمد، سلمان ولد شریف اور شہزاد ولد جامل شامل ہیں۔
وی بی ایم پی نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام افراد کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، یا اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔